May 24, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/sickbdsmcomics.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
تيك توك وواشنطن (تعبيرية- العربية.نت)

ا

اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ میں گذشتہ بدھ کو منظور ہونے والے نئے قانون نے مشہور چینی ایپلی کیشن ’ٹک ٹاک‘ پر پابندی عائد کر دی ہے۔

سینیٹ اور ایوان نمائندگان سے منظور بل کے تحت ٹک ٹاک کی چینی مالک کمپنی کو اگلے نو ماہ کے اندر اس پلیٹ فارم کے اثاثوں سے اپنے آپ کو الگ کرنا ہوگا اور اگر ایسا نہ ہوا تو امریکہ میں ٹک ٹاک کے استعمال پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔

امریکی کانگریس سے قانون سازی کی منظوری کے بعد یہ بل اب صدر جو بائیڈن کو بھیجا جا رہا ہے جو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ اس بل پر دستخط کر دیں گے جس سے اسے قانون کا درجہ حاصل ہو جائے گا۔Play Video

امریکی فیصلے نے بین الاقوامی شہرت حاصل کرنے کے لیے پہلی چینی “موبائل” ایپلی کیشن کو نشانہ بنایا۔

تاہم چینی حکام خاموش رہے اور گذشتہ بدھ کے بعد سے ایک لفظ بھی نہیں کہا، جس سے وجوہات کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔

یاد رہے کہ چینی حکام نے ماضی میں ٹک ٹاک کے خلاف ان امریکی چالوں کو ایک کامیاب چینی کمپنی کو دبانے کی کوشش اور امریکی منافقت کی مثال قرار دیا تھا۔

لیکن چند دن پہلے منظر بدل گیا کیونکہ جب ان سے امریکی پابندیوں کے نئے قانون کے بارے میں بار بار پوچھا گیا تو انہوں نے واشنگٹن پر تنقید نہیں کیا، اور محض اتنا کہا کہ وہ ماضی میں اپنے موقف کا اعلان کر چکے ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ بیجنگ نے بلنکن کے دورے کو مدنظر رکھ کر خاموشی اختیار کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کا دورہ کل جمعہ کو اختتام پذیر ہوا تھا۔

“ٹک ٹاک” کی اہمیت

تاہم شاید سب سے اہم وجہ کہیں اور ہے۔

چین نے بہ ظاہرجان بوجھ کر بائٹ ڈانس کو اس کے ساتھ منسلک کرنے سے گریز کیا ہے، خاص طور پر چونکہ چینی کمپنی جس میں سے نصف سے زیادہ غیر ملکیوں کی ملکیت ہے اور اس کے سرمایہ کاروں میں کارلائل گروپ اور جنرل اٹلانٹک شامل ہیں۔ جب سے یہ ایپ امریکی تنقید کی زد میں آئی ہےوہ بیجنگ سے خود کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔Play Video

اس وجہ کے علاوہ ایک اور وجہ بھی ہے جو کم اہم نہیں ہے۔ یہ خود بیجنگ کے لیے “ٹک ٹاک” کی اہمیت میں ایک راز ہے۔

باخبر ذرائع نے تصدیق کی کہ یہ مشہور ایپلی کیشن چین کے لیے ہواوے کے مقابلے میں کم اسٹریٹجک اہمیت رکھتی ہے۔

بیجنگ اسے صنعتی اور تکنیکی طاقت بننے کی جستجو میں زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔

موقع نہیں گنوایا!

تاہم بیجنگ کی جانب سے حالیہ دنوں میں امریکی پابندیوں پر عوامی طور پر تبصرہ کرنے سے گریز کے ساتھ کمیونسٹ پارٹی کے پروپیگنڈہ ڈیپارٹمنٹ نے اس معاملے کو مقامی طور پر امریکہ کے خلاف جذبات کو بھڑکانے کے لیے استعمال کرنے کا موقع نہیں گنوایا۔

اس نے امریکہ میں TikTok کے مسائل پر رپورٹس تیار کرنے کے لیے سرکاری میڈیا کو مطلع کیا جو اس معاملے سے واقف لوگوں کے مطابق قدرتی طور پر ByteDance پر ہدایت کی گئی تھیں۔

قابل ذکر ہے کہ بائٹ ڈانس نے کل واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ وہ امریکہ میں سرمایہ کاروں کو ایپ فروخت کرنا قبول نہیں کرے گی۔

جبکہ اس معاملے سے واقف ذرائع نے وضاحت کی کہ چینی کمپنی ایپلی کیشن کو فروخت کرنے کے بجائے اسے بند کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔ اس بندش کا بائٹ ڈانس کے کاروبار پر محدود اثر پڑے گا جب کہ کمپنی کو “بنیادی الگورتھم” کو ترک کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا جو اس کے لیے زیادہ اہم ہے۔

ٹک ٹاک کے سی ای او ’شو زی شیو‘ نے گذشتہ بدھ کو کہا تھا کہ کمپنی صدر جو بائیڈن کے دستخط کردہ قانون پر عمل درآمد روکنے کے لیے قانونی جنگ جیتنے کی توقع رکھتی ہے جس میں 170 ملین امریکیوں کے ذریعے استعمال ہونے والی ایپ پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *