May 24, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/sickbdsmcomics.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

وزیر خارجہ سعودی عرب شہزادہ فیصل بن فرحان نے غزہ کی صورتحال کو ہر حوالے سے تباہی کن کہتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں ہونے والی مسلسل تباہی اس امر کو نمایاں کرتی ہے کہ بین الاقوامی سطح پر امن اور سلامتی کے لیے موجود ‘میکانزم ‘ ناکام ہوگیا ہے ۔

شہزادہ فیصل بن فرحان اتوار کے روز ورلڈ اکنامک فورم کی کانفرنس میں جاری پینل ڈسکشن کے دوران گفتگو کررہے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کو بہت امید ہے کہ رفح میں اسرائیل کی جنگی کاروائی سے پہلے حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پاجائے گا ۔ انہوں نے یہ بات اتوار کے ہی روز فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے خطاب کے تناظر میں کہی جس میں محمود عباس نے کہا تھا کہ اگلے چند دنوں میں فلسطینی عوام رفح پر اسرائیلی حملہ دیکھ رہے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا رفح پر ہونے والا ممکنہ حملہ ایک بار پھر لاکھوں فلسطینیوں کی نقل مکانی کا باعث بنے گا جیسا کہ غزہ میں ہوا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کا غالب حصہ تباہی کرکے ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے اور لاکھوں فلسطینیوں کو بے گھر کر کے نقل مکانی پر مجبور کردیا ہے نتیجہ یہ ہے کہ غزہ اس وقت ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے ۔ لگ بھگ ساڑھے 34000 فلسطینیوں کی اس غزہ جنگ میں ہلاکت کا چکی ہے جن میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے ۔

وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے مزید کہا ہمارے لیے زیادہ پریشانی کی ایک بات یہ ہے کہ غزہ جنگ کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر سلامتی کے لیے بروئے کار میکانزم مکمل طور پر ناکام نظر آرہاہے ۔حتی کہ یہ میکانزم انسانی بنیادوں پر جنگ زدہ غزہ کے لوگوں کے لیے خوراک کی تقسیم اور ترسیل ممکن بنانے کے لیے بھی ممکن نہیں نظر آتا ۔ انہوں نے کہا یہ بحث کبھی ختم نہ ہونے والی رہے گی کہ غزہ کے مسلمانوں کی مدد کے لیے کافی امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوسکے ہیں یا نہیں ۔

انہوں نے کہا یہ صورتحال تباہ کن اور بہت خوفناک ہے ۔ حتی کہ تباہ کن سے بھی زیادہ بدترین ہے ۔ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اس موقع پر مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے بارے میں سعودی موقف کا اعادہ کیا اور کہا کہ ‘یہی ایک قابل بھروسہ ،جائز اور معقول حل ہے ۔ اس حل کو اپنانے کے لیے یہ ضمانت دینا ہوگی کہ ہم بحران کو دوبارہ جنم نہیں لینے دیں گے ۔ ‘

بتایا گیا کہ سعودی عرب اپنے شراکت داروں خصوصا یورپی شراکت داروں کے ساتھ مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات لے لیے کوشاں ہے ۔ وزیر خارجہ سعودی عرب نے کہا کہ اس معاملے کو متحارب فریقین پر نہیں چھوڑا جا سکتا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ خطے کے تمام لوگوں کے مفاد میں ہے ، فلسطینیوں کے مفاد میں ، اسرائیلیوں کے مفاد میں ہے حتی کہ پوری عالمی برادری کے مفاد میں ہے کہ اس مسئلہ فلسطین کا حل نکلے ۔

وضاحت کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ مملکت سعودی عرب وہ سب کچھ کرے گی جو اس کے لیے ممکن ہے اور صحیح سمت میں ہوگا ۔

یورپی یونین کے خارجہ پالیسی سربراہ جوزپ بوریل بھی ورلڈ اکنامک فورم میں اسی پینل میں شامل تھے جس میں سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان بھی موجود تھے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *