May 18, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/sickbdsmcomics.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Caption: Palestinian health workers stand next to unearthed bodies buried by Israeli forces in Nasser hospital compound in Khan Younis in the southern Gaza Strip on April 21, 2024, as battles continue between Hamas militants and Israeli forces in the besieged Palestinian territory. (AFP)

ترکیہ کی طرف سے بدھ کے روز جاری کیے گئے بیان میں امریہ کی غزہ میں اسنانی حقوق کی چلاف ورزی پر مبنی رپورٹ کو دوہرے معیار پر مبنی رپورٹ قرار دیا ہے ترکیہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اس میں اسرائیل کی غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اسرائیل کی زدیاتیوں کا احاطہ کرنے کے بجائے ان سے چشم پوشی کی گئی ہے۔ جو امریکہ کے دوہرے معیار کا اظہار ہے۔

واضح رہے امریکی دفتر خارجہ نے منگل کے روز انسانی حقوق کی صورتحال اور خلاف ورزیوں پر مبنی اپنی سالانہ رپورٹ ھاری کی جس میں غزہ کا ذکر بھی موجود ہے۔ یہ رپورٹ ایک ایسے موقع پر جاری کی گئی ہے جب غزہ میں اسرائیلی جنگ کے دو سو دن مکمل ہوئے ہیں اور دوسری جانب امریکہ میں اسی روز اسرائیلی فوج کے لیے 13 ارب ڈالر کے جنگی اسلحہ اور فوجی امداد کی منظوری دی گئی ہے۔

اسرائیل کے لئے امریکی جنگی اسلحہ کی اس نئی منظوری کا فیصلہ اس کے باوجود کیا گیا ہے کہ امریکہ میں نوجوان اور انسانی حقوق پر یقین رکھنے والے طبقات غزہ میں فوری جنگ بندی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ آئے روز ہزاروں طلبہ اور شہری سڑکوں پر نکل کر احتجاج کر رہے ہیں۔

ترکیہ کی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے ‘ اسے گہری تشویش کا موقع ہے کہ امریکی رپورٹ غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا پوری طرح سے احاطہ نہیں کرتی ہیں۔ بلکہ یہ رپورٹ سیاسی مفادات کے تابع رہ کر تیار کی گئی ہر اور غیر جانبداری و معروضیت سے دور رہتے ہوئے بنائی گئی ہے۔’

وزارت خارجہ کے مطابق اسی لیے یہ امریکہ کے دوہرے معیار کی عکاس رپورٹ ہے۔ ترکیہ نے اس رپورٹ میں دہشت گرد قرار دی گئی کردوں کی تنظیم کے بارے میں امریکی خیالات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

واضح رہے اسرائیلی فوج نے غزہ می شہری آبادیوں کو مسلسل بمباری کا نشانہ بنا کر اب تک 34184 سے زائد فلسطینیوں کو شہید ، 23 لاکھ کو بے گھر کیا اور پورے غزہ کو تباہی سے دو چار کر کے ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے۔

جبکہ طویل ناکہ بندی کر کے غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد اور خوراک کی ترسیل تک میں رکاوٹیں پیدا کر کے قحط جیسی صورت حال پیدا کر رکھی ہے۔ حد یہ ہے کہ امدادی کارکنوں کو ڈرون حملوں میں ہلاک کیا گیا اور خوراک کے حصول کے لیے جمع بھوکے فلسطینیوں کو بھی اسرائیلی فوج نشانہ بنا کر ہلاک کر دیتی ہے۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اپنے ایک تازہ بیان میں امریکہ کے دوہرے معیار پر مبنی تاثر کی تردید کرنے کی کوشش کی ہے کہ امریکہ اسرائیل کے حوالے سے دوہرے پن کآ شکار ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *