May 18, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/sickbdsmcomics.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
رئيسية

عید جیسے پرمسرت مواقع اور تفریحی ایام کے ساتھ منفرد رسوم بھی مختلف خطوں میں دیکھی جاتی ہیں۔

ایسی ہی ایک منفرد رسم افریقی ملک صومالیہ میں نسل درنسل چلی آ رہی ہے۔ اس رسم پر چلتے ہوئے لوگ عید کے موقعے پردف بجاتے سڑکوں پرنکلتے ہیں اور خلیجی عرب رقص کی طرز پر رقص کرتے ہوئے روایتی رقص کرتے اور عید کی مبارک باد پیش کرتے ہیں۔

موغادیشو کے پرانے حمروین محلے میں رہنے والے صومالی آل فقیہ قبیلے کو عید کی نمازکی رسم ادا کرنے کے بعد خصوصی رسوم و رواج کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔وہ محلے کی گلیوں میں گھومتے ہیں اورخاص رسومات پر عمل کرتے ہیں۔ دف بجاتے ہیں، روایتی رقص کرتے ہیں اور خلیجی دبکہ کی طرز پر رقص کرتے ہیں۔

وہ قبیلے کے ارکان کے درمیان تعلق کو مضبوط کرنے کے موقع پرمبارکباد اور دعاؤں کا تبادلہ بھی کرتے ہیں. اس قبیلے کی جڑیں یمن میں واپس جاتی ہیں۔

آل فقیہ قبیلے کے سردار الحاج محیی الدین حاج حسین نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ یہ رسمیں قبیلے کے ارکان کی جانب سے کئی سالوں سے رائج ہیں، اور یہ قدیم رسوم ہیں جو انہیں نسل در نسل وراثت میں ملی ہیں۔ ملک میں بہت کچھ بدل گیا مگر یہ رسمیں جاری ہیں۔

ایک دوسرے قبائلی رہ نما ڈاکٹرعلی عمرنے کہا کہ “الفقیہ خاندان مذہبی خاندانوں کی ایک توسیع ہے جو صومالیہ میں سینکڑوں سالوں سے آباد ہیں، اور وہ ان قبائل میں سے ایک ہیں جو اپنے قدیم ورثے کو محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔

یہ قبیلہ ان عرب قبائل میں سے ایک ہے جو موغادیشو کے ساحلی محلے حمروین میں بنادر قبائل کی چھتری تلے آباد ہیں۔ بنادرکے علاقے اور اس کے دارالحکومت موغادیشو کے نام کے حوالے سے یہ ان پہلے قبائل میں سے ایک ہے جو یہاں آباد ہیں۔ ان میں سے بہت سے قبائل کی جڑیں یمن اور عمان میں ملتی جاتی ہیں۔ خانہ جنگی کے بعد سیاسی پسماندگی کی شکایت کرتے ہیں، کیونکہ وہ ان قبائل میں سے ہیں جنہوں نے جنگ کے دوران ہتھیار نہیں اٹھائے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *