May 24, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/sickbdsmcomics.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu, right, welcomes French President Emmanuel Macron before their talks in Jerusalem, Tuesday, Oct. 24, 2023. (File photo: Reuters)

فرانس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ فرانس کا ایسا کوئی فوری ارادہ نہیں ہے کہ اسرائیل کو انسانی بنیادوں پر عمل کرنے کے لئے غزہ میں امدادی اشیا کی ترسیل بڑھانے پر مجبور کرے یا اس سلسلے میں دباو ڈالنے کے لئے اسرائیل پر کوئی پابندیاں لگائے۔ فرانس کے وزیر خارجہ نے اسرائیل کو رام رکھنے کے لئے اپنے ملک کی طرف سے اسی ہفتے سامنے آنے والے موقف کو بدل دیا ہے۔

وزیر خارجہ سٹیفن سیجورنے فرانسیسی پارلیمنٹ میں قانون سازوں کے ساتھ اسرائیل کی غزہ میں جاری جنگ اور مشرق وسطی کی صورت حال پر بریف کر رہے تھے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے ارکان کے سامنے کہا’ ابھی فوری طور پر اہسا کوئی منصوبہ نہیں ہے کہ اسرائیل پر پابندیاں لگائی جائیں۔’

واضح رہے فرانس نے حال ہی میں مقبوضہ مغربی کنارے میں چند یہودی آباد کاروں پر فلسطینیوں کے خلاف پر تشدد واقعات میں ملوث ہونے پر کچھ پابندیاں لگانے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم غزہ کی مسلسل ناکہ بندی کر کے انسانی بنیادوں پر امدادی کارروائیوں کو روکنے کے باوجود اسرائیل کو ایسے کسی دباو میں نہیں لایا جارہا ہے۔

وزیر خارجہ نے پارلیمنٹ کے سامنے اسرائیل کے اطمینان کی باتیں اس انٹرویو کے محض چند دن بعد کہی ہیں جن میں انسانی بنیادوں پر امدادی سرگرمیاں بڑھانے پر مجبور کرنے کے لئے اسرائیلی حکومت پر پابندیاں لگانا ایک آپشن ہو سکتی ہے۔

ریڈیو فرانس 1 اور فرانس 24 میں انٹرویو کے دوران سٹیفن سیجورنے نے کہا تھا’ لازمی ہے کہ دباؤ کے کئی طریقے ہو سکتے ہیں۔ان میں سے ایک آپشن اسرائیل کے خلاف پابندیاں لگانے کی بھی ہوسکتی ہے۔

وزیر خارجہ کے اس انٹرویو کے بعد فرانس میں دونوں طرح کا رد عمل سامنے آیاتھا۔ مسلمانوں نے اس کی پذیرائی کی تھی جبکہ اسرئیل کے حامیوں نے برا منایا تھا۔ اب وزیر خارجہ نے پارلیمنٹ میں اس بارے میں وضاحت بھی کر دی یے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *