May 18, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/sickbdsmcomics.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
This satellite image taken by Maxar Technologies shows the Belize-flagged ship Rubymar in the Red Sea on Friday, March 1, 2024. The Rubymar, earlier attacked by Yemen's Houthi rebels, has sunk in the Red Sea after days of taking on water, officials said Saturday, March 2, 2024, the first vessel to be fully destroyed as part of their campaign over Israel's war against Hamas in the Gaza Strip. (Maxar Technologies via AP)

یورپی یونین کے نیول مشن کے تحت جنوبی بحیرہ احمر میں جرمن فوج نے حوثی میزائل حملے کو روک کر بحری جہازوں کو بچا لیا ہے۔ علاقے میں موجود ایک جرمن فریگیٹ کی طرف سے جاری کیے گئے پریس ریلیز کے مطابق میزائل حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقے سے داغا گیا تھا۔

میزائل روکنے کی کارروائی جرمنی کی فریگیٹ ہیسن کی طرف سے کی گئی۔ جس کے نتیجے میں بحری تجارتی جہازوں کو اس میزائل حملے میں کسی بھی قسم کے نقصان سے بچانے میں جرمن فریگیٹ کامیاب رہی۔

واضح رہے بحیرہ احمر میں ‘ اسپائیڈز ‘ ماہ فروری میں ‘ لانچ’ کی گئی تھی۔ تاکہ بحری تجارتی راستوں پر حوثیوں کے ہر طرح کے میزائل حملوں اور ڈرون حملوں کو روکا جا سکے۔

برطانوی ‘ میری ٹائم سیکیورٹی کی کمپنی ‘ ایمبری’ نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ اسے اطلاعات ملیں کہ یمن کی جنوب مغربی بندر گاہ حدیدہ کے نزدیک سے 61 سمندری میل کے فاصلے پر ایک کشتی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

علاوہ ازیں ‘یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آرگنائزیشن ‘ ( یو کے ایم ٹی او ) کے مطابق ایک جہاز کے ایک کپتان نے اعلان کیا اس کے جہاز کو دو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے تاہم جہاز کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ تاہم ‘ یو کے ایم ٹی او’ نے اس نشانہ بنائے جانے والے جہاز کی شناخت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ہے۔

ایرانی حمایت یافتہ حوثی پچھلے کئی مہینوں سے بحیرہ احمر کے علاقے میں نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے یہ حملے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے خلاف فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ہیں۔

‘یو کے ایم ٹی او’ کے مطابق ایک میزائل کو اتحادی فورسز روک نہیں سکیں۔ جو تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کے لیے فائر کیا گیا تھا۔ دوسرا میزائل جہاز سے دور پانیوں میں جا کر گرا۔ تاہم کسی بھی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ یاد رہے حوثیوں کے ان حملوں کے نتیجے میں بحیرہ احمر میں تجارتی آمد و رفت اور نقل و حمل بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *