May 24, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/sickbdsmcomics.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Polish President Andrzej Duda gives a briefing at the Nuclear Security Summit in Washington April 1, 2016. REUTERS/Gary CameronPolish President Andrzej Duda gives a briefing at the Nuclear Security Summit in Washington April 1, 2016. REUTERS/Gary Cameron

پولینڈ کے صدر اینڈرزچ ڈوڈا نے غزہ میں پولش امدادی کارکن کی ہلاکت پر اسرائیلی سفیر کے تبصرے کی سخت مذمت کی ہے۔ پولینڈ کا امدادی کارکن پیر کے روز چھ دوسرے ملکوں کے امدادی کارکنوں کے ساتھ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہلاک ہوگیا تھا۔ صدر پولینڈ نے اسرائیلی سفیر کو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں سب سے بڑا مسئلہ قرار دے دیا۔

35 سالہ ڈیمیان سوبول امریکی ادارے ‘ورلڈ سینٹرل کچن’ سے وابستہ تھے اور غزہ میں امدادی کارروائیوں کے لیے سامان کی تقسیم کے لیے گیا تھا۔ اسرائیلی سفیر نے بدھ کی رات ایک انٹرویو میں اس واقعے پر معذرت کرنے سے انکار کر دیا۔

اسرائیلی سفیر یعقوب لیون سے انٹرویو کرنے والے نے بار بار سوال کے انداز میں معذرت کرنے کے لیے کہا مگر اسرائیلی سفیر نے انکار کر دیا۔ واضح رہے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی اس انتہائی بہیمانہ واقعہ پر کسی قسم کی معذرت نہیں کی بلکہ کہا کہ جنگ کے دنوں میں ایسے واقعات ہو جاتے ہیں۔ تاہم اسرائیلی فوج کو اس کی تحقیقات کرنا چاہییں۔

پولینڈ کے صدر نے جمعرات کے روز سفیر کے ان الفاظ پر کہا ‘اسرائیلی سفیر اسرائیل اور پولینڈ کے درمیان تعلقات میں بہت بڑا مسئلہ ہیں۔’ خیال رہے دونوں ملکوں کے درمیان امدادی کارکنوں پر اسرائیلی بمباری کی وجہ سے تعلقات میں دوبارہ کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ پچھلے سال ہولو کاسٹ کے ایشو پر متعدد بار سفارتی مسائل کا سامنا ہوا تھا۔

پولینڈ دوسری جنگ عظیم میں نازیوں کے قبضے میں رہ چکا ہے اور اس کے 60 لاکھ شہری جنگ عظیم دوم میں ہلاک ہوئے تھے۔ جن میں 30 لاکھ یہودی شامل تھے۔ پولینڈ نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ پولش امدادی کارکن کی بمباری سے ہلاکت کے بعد پولینڈ میں یہود مخالف واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹیسٹ نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا ہے اگر اسرائیلی سفیر نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ پولش ذرائع ابلاغ کے سامنے آئے تو اسے چاہیے تھا کہ وہ انسانی بنیادوں پر بھلے طریقے سے معذرت کرتے اور اس میڈیا کے ساتھ رابطے کو معذرت کے لیے ایک اچھا موقع سمجھتے۔

پولینڈ کی وزارت خارجہ نے اسرائیلی ایلچی کو جمعہ کے روز طلب کیا تھا۔ تاکہ امدادی کارکن کی اسرائیلی بمباری سے ہلاکت پر بات چیت کی جائے۔

پولش حکام نے پیر کے روز اسرائیلی بمباری سے ہلاک ہونے والے امدادی کارکنوں کے خاندانوں کے لیے زر تلافی ادا کرنے کا بھی اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے۔ صدر نے بھی اس بارے میں کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو اصول پسندی کے تقاضے کے تحت اسرائیل کی طرف سے زر تلافی ادا کیا جانا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *