April 18, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/sickbdsmcomics.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253


3 منٹسread

ایران میں کے نئے انتخابات کے لیے امیدواروں نے جمعرات کے روز نئی انتخابی مہم کا باقاعدہ طور پر آغاز کر دیا ہے۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق پارلیمنٹ کی 290 نشستوں کے لیے 15200 امیداواروں کے درمیان مقابلہ ہو گا۔ جن میں سے جیتنے والے چار سال کے لیے ملک کے قانون ساز ادارے کے رکن رہیں گے۔

ملکی کی تاریخ کی یہ انتخابی مہم 2022 ستمبر میں 22 سالہ مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد پہلی انتخابی مہم ہے۔ مہسا امینی کو ایران کی اخلاقی پولیس نے خواتین کے لیے لباس کے لیے ضابطہ اخلاق کی بر سر عام خلاف ورزی پر گرفتار کیا تھا اور اسی حراست کے دوران اس کی ہلاکت ہو گئی تھی۔

اس کی ہلاکت کے بعد ملک میں احتجاجی مہم شروع ہو گئی جو آہستہ آہستہ پورے ملک میں پھیلتی گئی اور اس دوران ہنگامہ اور فسادات کے دوران 500 سے زائد شہری و سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے۔ جبکہ پولیس اور سکیورٹی اداروں نے 20 ہزار کے لگ بھگ افراد کو گرفتار کر لیا، ان گرفتار کیے گئے لوگوں میں خواتین اور کم سن افراد کے علاوہ غیر ملکی بھی شامل تھے۔

ایرانی انقلاب کے برٓعد سے اپنی نوعیت کے مؤثر ترین ہنگامے تھے۔ جنہوں نے ایرانی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا۔ نوجوانوں اور خصوصا انقلاب بیزار طبقات میں اس احتجاجی مہم کے گہرے اثرات محسوس کیے گئے۔

اب جمعرات کے روز شروع کی گئی انتخابی مہم کی ایک اہمیت یہ ہے کہ مہسا امینی اور اس کے سینکڑوں حامیوں کی اموات کا سبب بنے والی احتجاجی مہم کے بعد پہلی بار ملک کے انقلاب نواز اور انقلاب بیزار طبقات آمنے سامنے ہوں گے اور انہیں اپنی پسند کے مطابق ارکان پارلیمنٹ چننے کا موقع ملے گا۔

توقع کی جارہی ہے ۔ مہسا امینی، سال 2022 کی احتجاجی تحریک کے دوران مارے گئے سینکڑوں افراد اور اخلاقی پولیس کے خلاف رد عمل کا ایک بار پھر اظہار اس انتخابی مہم کے دوران سرگرمی سے سامنے آ سکتا ہے۔ ان انتخابات کی ایک اور انفرادیت یہ ہے کہ 2020 کے پارلیمانی انتخابات کے مقابلے میں اس بار مقابلے کے لیے سامنے آنے والے امیدواروں کی تعداد تقریباً دو گنا ہے۔

یکم مارچ کو متوقع ان انتخابات کے لیے امیدوراوں میں خواتین کی تعداد 2020 کے مقابلے میں 1713 ہے۔ یکم مارچ کو پولنگ کے بعد ماہ مئی میں نئی پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کیا جائے گا۔ تاہم واضح رہے ایرانی دستور کے مطابق پارلیمنٹ ایرانی سپریم لیڈر کی نگرانی میں ہی کام کرتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *