April 18, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/sickbdsmcomics.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Pro-Palestinian demonstrators rally outside the Israeli embassy to call for a ceasefire in Gaza, amid the ongoing conflict between Israel and the Palestinian militia group Hamas, during a protest in Washington, U.S., March 2, 2024. (Reuters)

جمعرات کو ایک بڑے سروے میں کہا گیا کہ نوجوان امریکی دوسرے شہریوں کے مقابلے میں بہت زیادہ تنقیدی ہیں کہ اسرائیل کس طرح غزہ میں اپنی جنگ لڑ رہا ہے اور امریکی رائے عامہ مجموعی طور پر صدر جو بائیڈن کے اس بحران سے نمٹنے پر منقسم ہے۔

جنگ کے بارے میں شدید، منقسم عوامی بحث — اور واشنگٹن میں اس بات پر وسیع بحث کہ یہ بائیڈن کے دوبارہ انتخاب کے امکانات کو کس طرح متأثر کرے گا — کے باوجود پیو ریسرچ سینٹر کے سروے میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ بہت سے امریکی اس طرف زیادہ توجہ نہیں دے رہے اور 40 فیصد نے کہا کہ انہیں یقین نہیں تھا کہ آیا بائیڈن صحیح توازن قائم کر رہے تھے۔

18 سے 29 سال کی عمر کے امریکیوں میں سے 46 فیصد نے کہا جس طرح اسرائیل حماس کے سات اکتوبر کے حملے کا جواب دے رہا ہے وہ ناقابلِ قبول ہے، صرف 21 فیصد نے کہا یہ قابل قبول ہے اور باقی نے جواب دیا انہیں یقین نہیں ہے۔

نوجوانوں کے خیالات بوڑھے امریکیوں کے تقریباً برعکس تھے جن میں 65 اور اس سے زیادہ عمر کے 53 فیصد نے اسرائیل کے ردِعمل کی حمایت کی اور 29 فیصد نے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا۔

81 سالہ بائیڈن نے اکثر خود کو اسرائیل کا تاحیات حامی بتایا ہے اور سات اکتوبر کے حملے کا جواب دینے کے اس کے حق کا سختی سے دفاع کیا ہے جو اسرائیل کی تاریخ کا مہلک ترین حملہ تھا جس میں زیادہ تر عام شہری مارے گئے تھے۔

صدر نے اسرائیل کو فوجی اور سفارتی مدد کی پیشکش کی ہے لیکن ساتھ ہی حماس کے زیرِ اقتدار غزہ کی پٹی میں شہریوں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات نہ کرنے پر اس کے رہنماؤں پر تنقید کی ہے جس کے بارے میں اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ وہاں قحط آنے والا ہے۔

جیسے جیسے امریکی انتخابات قریب آرہے ہیں، بہت زیادہ توجہ مشی گن ریاست پر مرکوز ہو گئی ہے جسے نومبر میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ مقابلے میں جیتنا بائیڈن کے لیے ضروری ہے — اور جہاں ایک بڑی مسلم اور عرب-امریکی کمیونٹی قریبی مقابلے میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

سروے سے پتہ چلتا ہے کہ ساتھی ڈیموکریٹس میں بھی بائیڈن کے اس تنازعہ سے نمٹنے کے بارے میں خیالات ملے جلے تھے جن میں 34 فیصد نے کہا وہ اسرائیل کی بہت زیادہ حمایت کر رہے ہیں۔ اور 29 فیصد نے کہا وہ صحیح توازن قائم کر رہے ہیں۔

اس سروے میں مسلمان امریکیوں میں اسرائیل کے بارے میں سخت تنقیدی خیالات بھی ظاہر ہوئے جس میں 12,693 لوگوں کے جوابات لیے گئے۔

اکیس فیصد مسلمانوں نے کہا کہ حماس نے سات اکتوبر کے حملے کو قابلِ قبول طریقے سے انجام دیا۔ یہ خیال صرف پانچ فیصد امریکی آبادی کا ہے۔

اسرائیل کس طرح جنگ کر رہا ہے، اس بات کی منظوری یہودی امریکیوں میں 62 فیصد نے دی۔ یہ تعداد قومی اوسط سے زیادہ ہے حالانکہ یہودی برادری نے سفید انجیلی بشارت والے پروٹسٹنٹ کے مقابلے میں اسرائیل پر زیادہ تنقید کی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *