April 13, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/sickbdsmcomics.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
U.S. Secretary of State Antony Blinken speaks to the media in Manama, Bahrain, Wednesday, Jan. 10, 2024, as he departs for Tel Aviv. (Evelyn Hockstein/Pool Photo via AP)

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں مزید خرابی کو اجاگر کرتے ہوئے جمعرات کو کہا کہ غزہ کے جنوبی قصبے رفح پر اسرائیل کا کوئی بڑا زمینی حملہ ” ایک غلطی” اور حماس کو شکست دینے کے لیے غیر ضروری ہو گا ۔

اس سے قبل بلنکن نے جنگ شروع ہونے کے بعد سے مشرق وسطیٰ کے اپنے چھٹے فوری اہمیت کے مشن کے دوران قاہرہ میں ممتاز عرب سفارت کاروں کے ساتھ جنگ بندی کی کوششوں اور غزہ کے تنازع کے بعد مستقبل پر تبادلہ خیال کیا۔

قاہرہ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلنکن نے کہا “رفح میں کوئی بڑا فوجی آپریشن ایک غلطی ہو گی، جس کی ہم حمایت نہیں کرتے۔ اور، حماس سے نمٹنے کے لیے بھی یہ(حملہ) ضروری نہیں ہے۔” تاہم انہوں نے اس پر زور دیا کہ حماس سے نمٹنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بڑی کارروائی کا مطلب مزید عام شہریوں کی ہلاکت اور غزہ کے انسانی بحران کو بدترین کرنا ہو گا، انہوں نے کہا کہ جمعہ کو اسرائیل میں رفح پر، اور اگلے ہفتے واشنگٹن میں متبادل کارروائی پر بات چیت ہو گی۔

بلنکن نے کہا کہ حماس کے زیر حراست اسرائیلی یرغمالوں کی رہائی کے ساتھ ساتھ “فوری اور مستقل جنگ بندی کی ضرورت ہے اور ان بالواسطہ مذاکرات سے خلیج کم ہو رہی ہے جن میں امریکہ، مصر اور قطرنے ثالثی کے لیے ہفتوں گزارے ہیں۔

بلنکن، وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کی جنگی کابینہ سے ملاقات کے لیے جمعہ کو اسرائیل جا رہے ہیں۔ نیتن یاہو اور صدر جو بائیڈن کے درمیان جنگ کے حوالے سے بڑھتے ہوئے اختلافات ممکنہ طور پر ان کی بات چیت پر غالب رہیں گے، اور خاص طور پر نیتن یاہو کے رفح پر زمینی حملہ کرنے کے عزم پر، جہاں دس لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں نے تباہ کن اسرائیلی زمینی اور فضائی حملوں سے پناہ حاصل کی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *