April 24, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/sickbdsmcomics.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
مايا رجيل

خواتین کا عالمی دن منانے کے مختلف پہلو ہیں جو ہر سال 8 مارچ کوپوری دنای میں منایا جاتا ہے۔ الجزائر میں اس موقع پر پارٹیاں منعقد کی جاتی ہیں اور بعض سرکاری اور نجی ادارے اپنے ملازمین کو تحائف اور پھول پیش کرتے ہیں۔ تاہم الجزائر میں ایک مشہور سوشل میڈیا انفلوئنسرنے بازاروں میں جا کر پیسے کے لفافے تقسیم کر کے تنازعہ کھڑا کر دیا۔ کچھ لوگوں نے اس رویے کو خواتین کے لیے “ذلت آمیز” قرار دیا۔

خواتین کے عالمی دن منانے کے موقع پر الجزائرکے مواد کی تخلیق کار مایا رجیل جس کے انسٹاگرام پر 3.5 ملین فالوورز ہیں نے اس موقع کو منانے کا ایک نیا طریقہ اختیار کیا، کیونکہ اس نے عوامی بازاروں کے درمیان گھومنے اور خواتین میں پیسوں کے لفافے تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا، جہاں وہ ایک دکان کے سامنے کھڑی ہو گئی۔وہاں لوگوں کا ایک ہجوم جمع ہو گیا۔ خواتین نے مڑ کر دیکھا اور ان میں سے ہر ایک نے اس سے پیسوں کا لفافہ وصول کیا۔ مایا نے کچھ لوگوں میں پھول بھی تقسیم کیے۔

مایا رجیل کے اس اقدام کو متعدد فالورزکی طرف سے پذیرائی ملی جنہوں نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ان کی خواتین کی مدد کرنے کو سراہا۔ ان میں سے ایک نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ “وہ واحد خاتون ہیں جنہوں نے بغیر خوشامد کے سڑکوں پر نکلنے اور بے ساختہ خواتین سے ملنے کا فیصلہ کیا”۔ ایک اور نے تبصرہ کیا کہ “کم از کم اس نے نعروں سے آگے بڑھ کر خواتین کی عملی مدد کی۔ یہ قابل ستائش ہے‘‘۔

مایا جمیل کی پیسے بانٹنے کی ویڈیوسوشل نیٹ ورکس پر بڑے پیمانے پر وائرل ہوئی تو کئی صارفین نے اس پر تنقید کی۔ انہوں نے اسے “خواتین کی توہین” قرار دیا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ دیکھو عورتیں کس حال میں آگئی ہیں۔ وہ ایک ایسی انفلوئنسرسے بھیک مانگ رہے ہیں جو ان کے بین الاقوامی دن پر ان کی توہین کرتی ہے”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *