April 18, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/sickbdsmcomics.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
biden schumer- reuters

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے امریکی تاریخ کے اعلی ترین منتخب یہودی رہنما چک شومر کی ایک حالیہ نیتن یاہو مخالف تقریر کی تائید کر دی ہے۔ صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ شومر نے بالکل درست بات کی ہے۔ یہ اسرائیل کی غزہ میں جنگ کی صورت حال میں نیتن یاہو کے خلاف اب تک کی سب سے زیادہ سخت تنقید پر مبنی تقریر ہے۔

امریکی سینیٹ میں اکثریتی لیڈر نےاسرائیلی وزیر اعظم کو خطے کے امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس نیتن یاہو سے جان چھڑانے کے لیے اسرائیل میں قبل از وقت انتخابات کرائے جائیں۔ شومر کی یہ تقریر ایک روز قبل جمعرات کو سامنے آئی تھی۔

جو بائیڈن جو کہ خود بھی اپنی انتخابی مہم کے دنوں میں نیتن یاہو کے بارے میں قدرے خفگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ شومر کی تقریر کے بارے میں کہا ‘اس نے ایک اچھی تقریر کی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ شومر نے بڑی سنجیدہ تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ یہی بات بہت سے دوسرے امریکی بھی کر رہے ہیں۔ ‘ جو بائیڈن نے جمعہ کے روز رپورٹرز ست گفتگو کررہے تھے۔

ایک روز پہلے ہی وائٹ ہاؤس کی طرف سے کہا گیا تھا کہ یہودی رہنما شومر نے اپنی سخت تقریر سے پہلے انہیں عندیہ دے دیا تھا۔ اس کی تصدیق جو بائیڈن نے بھی کی اور کہا کہ اس تقریر کے بارے میں زیادہ تفصیل میں نہیں جائیں گے۔

امریکہ کی جو بائیڈن انتظامیہ نیتن یاہو اور ان کی انتہاپسند حکومت کے بارے میں پہلے ہی خفگی کا شکار ہے کہ یہ اسرائیلی تاریخ کی سب سے زیادہ انتہا پسند حکومت ہے۔ جو غزہ میں بلا امتیاز شہری ہلاکتوں کی ذمہ دار ہے۔

واجح رہے اسرائیل غزہ میں سات اکتوبر سے مسلسل بمباری کر رہا ہے اور اب تک اکتیس ہزار سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک کرنے اور ہر طرح کے شہری انفراسٹرکچر سمیت پورے شہری کو ملبے کا ڈھیر بنانے کے باوجود حماس کو شکست نہیں دے سکا ہے۔ البتہ کئی حماس رہنماؤں کی ہلاکت کا ضرور بتاتا ہے۔

ان ہلاکتوں میں عورتوں اور بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ نیز اسرائیل نے اقوام متحدہ کے کارکنوں کو بھی بڑی تعداد میں ہلاک کیا ہے اور اقوام متحدہ کے ذیلی دفاتر اور مراکز کو بھی بار بار نشانہ بنایا ہے۔

یاد رہے شومر نے اپنی تقریر میں حماس کو سات اکتوبر کے حملے کے حوالے سے اپنی مذمت کا نشانہ بنایا، فلسطینی اتھارٹی جو کہ محمود عباس کے زیر قیادت قائم ہے کو کرپشن کی بنیاد پر اور نیتن یاہو اور اس کے انتہا پسند ساتھیوں کی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

شومر کے یہ خیلات نیتن یاہو کے بارے میں اس وقت سامنے آئے ہیں جب کچھ ہی روز پہلے اسرائیلی جنگی کابینہ کے رکن اور نیتن یاہو کے بڑے سیاسی حریف بینی گانٹز نے امریکی وائٹ کا دورہ کیا اور حکام سے ملاقاتین کی ہیں۔

شومر کی تقریری کی ری پبلکن پارتی کے ذمہ داروں نے مذمت کی ہے۔ تاہم یہ اپنی جگہ اہم بات ہے کہ یہ تقریر اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی انٹیلی جنس کی یہ رپورٹ سامنے ائی ہیں کہ نیتن یاہو کے خلاف اس سال اسرائیل میں برے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوں گے۔ اس کی بطور وزیر اعظم پوزیشن خطرے میں بھی پڑ سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *